بارش: اللہ کی رحمت یا شہریوں کے لیے زحمت؟ 

آج کراچی میں بارش ہو رہی ہے، جو بظاہر اللہ کی رحمت ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے شہر میں یہ رحمت اکثر "زحمت" بن جاتی ہے۔

بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی شہر کی خستہ حال سڑکیں اور ناقص سیوریج سسٹم کا پول کھل جاتا ہے۔ گلیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں، سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، اور عوام کا سفر ایک امتحان سے کم نہیں رہتا۔

■ اسکول جانے والے بچے گندے پانی میں سے گزر کر پہنچتے ہیں
■ دفاتر جانے والے لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں
■ موٹر سائیکل سوار سلپ ہو کر زخمی ہوتے ہیں
■ گھروں میں گندا پانی واپس آجاتا ہے

یہ صرف ایک قدرتی مظہر نہیں، یہ ہمارے انتظامی نظام کی ناکامی کی داستان ہے۔ جن سڑکوں کی مرمت سالوں سے نہیں ہوئی، جن نالیوں کی صفائی صرف کاغذوں میں ہوئی، وہ بارش کے پانی کا مقابلہ کیسے کریں؟

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ہر سال عوام کو وہی پریشانی، وہی گند، وہی کھلے مین ہولز اور وہی وعدے ملتے ہیں۔

کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اپنے مسائل صرف سہتے نہ رہیں، بلکہ آواز بنیں؟
یہ بلاگ "عام آدمی کی آواز" ہے — اگر آپ نے بھی آج بارش میں کوئی پریشانی دیکھی، محسوس کی، تو تبصرہ کریں، تصویریں بھیجیں، اپنی آواز شامل کریں۔

کیونکہ:

"جب تک ہم خود اپنی آواز نہیں بنیں گے، ہمارے مسائل صرف نالوں میں بہتے رہیں گے!"